شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم

نظم
۔۔۔
محبت رمز ہے گہری
کبھی یہ فقر لگتی ہے
صدائے کن کی چاہت میں
سفرمیلوں یہ کرتی ہے
کبھی گلزار بن جائے
کبھی یہ نوح کی کشتی
کبھی گمنام ہو جائے
کبھی ہر رنگ کو پکڑے
محبت موم جیسی ہے
یہ حدت سے پگھلتی ہے
کبھی محفل میں سجتی ہے
کبھی صحرا بھٹکتی ہے
کبھی بس ایک خواہش میں
یہ خود پہ جبر کرتی ہے
محبت سات رنگوں کی
کوئی تشہیر ہو جیسے
محبت راگ ہو جیسے
محبت وصل کی خواہش
محبت دل نشیں تعبیر جیسی ہے
محبت صبر سے
لپٹی ہوئی زنجیر ہو جیسے
ستاروں سے جڑی
امید کی تصویر ہو جیسے
محبت جاری و ساری
بقا کی ریت ہو جیسے

محبت وجد ہو جیسے
کہ ہر لمحہ ٹھٹکتی ہے
محبت فرض ہو جیسے
کہ ہر دل پہ اترتی ہے
محبت درد ہو جیسے
کہ سینوں میں تڑپتی ہے
محبت سانس ہے بھرتی
محبت رقص کرتی ہے
محبت اپنے جیسوں کی
نئی اک طرز کرتی ہے

Related posts

Leave a Comment